میں نے اللہ تعالٰی سے کہا مجھے اس وقت تک موت نا دینا جبتک اللہ کو نشان نہ اللہ نے کہا۔ جو اللہ کو شناخت لیتا
میں نے اللہ تعالٰی سے کہا مجھے اس وقت تک موت نا دینا جبتک اللہ کو نشان نہ اللہ نے کہا۔
جو اللہ کو شناخت لیتا ہے وہ کبھی مرتا نہیں ہے۔
مولانا رومی
کارزار زندگی میں امتحانات کی طاقت زیادہ ہے کہ زندگی
قصہ مختصر سوال امتحانات سے سوال ہوتا ہے۔
مدرسوں کے اسکولوں میں مہینوں میں پہلے سے تیاری شروع کی جاتی ہے کہ ریزلیٹ بہتر سے بہتر ہو۔
اس کے بعد کارکردگی کا دارومدار مشقت ہے۔
یہاں تک کے ماں اپنے اس بچے کو زیادہ پیارا مانگتی جس کے بچے ریزلیٹ بہتر ہوں جو ماں معیار پر پورا اترتا ہے۔
بلاشبہ اس جہاں میں انسان کو جتنے بھی طاقت سے طاقت اور طاقت حاصل کرنے کے لیے گئے ہیں
ارتقاء اور تمدنی غلامی میں انسان ترقی کی ارواح اور عروج تک رسائی ہے۔
لیکن مقصد تک میں دشوار آخر کیوں؟
اور امتحان (زندگی) کا مقصد تلاش کرنے کی جگہ نفعے کے پیچھے بھاگنا جیسے مردار کے پیچھے
اور چھتے ہوئے خزانوں کو چھوڑ کرپے دولت پر قبضہ کرنا۔
امتحان گاہ میں دو پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ہے۔
ظاہر و باطن
ظاہر میں جو نظر آتا ہے وہ اسباب کی بدولت۔۔۔۔
لیکن باطنی دنیا میں لازوال حقیقتیں آپ کے منتظر ہیں۔
بالکل موت نہیں آتا زنگ نہیں لگتا جو امر مٹنے کے لیے نہیں بنتے
جیسے روح ایمان سچائی حقیقی کامل علم جس میں مالک کائنات کی بڑائی ہو اور کامل وغیرہ
یاد رکھیں بنانے والے مصور کاریگر مالک ازل
اس رب العالمین نے دنیا میں موجود ہر شی کو بڑی نفاست اور فصاحت سے بنایا ہے۔
کہ نقص کی شناخت نہیں تو کیسے ممکن ہے۔
وہ سزا و جزا سے عار دے اور بڑے عالم میں انسان پر ظلم کر دے اور جبر کے گرادے پھر مٹی میں کوئی سزا نہ ملے۔
یہ ممکن نہیں عبادت تو فرشتے کرنے کے لیے کافی تھے۔
اچھائی وائی برائی کے پرزے جات انسان کے وجود میں سرائٹی کرتا ہوں اور کوئی پوچھنا نہیں بلکہ
قرب قیامت حقوق اللہ حقوق العباد اور رزق کی مقدار کا حساب اور طاقت کا حساب گویا ذرہ ناانصافی سب ترازو کے پلڑے میں تولے جائیں گے۔
اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے۔
اس کے لیے اپنی آخرت کے پرچوں کے ریزلیٹ کی فکر ہی دائمی حیات کا مقصد ہے۔
اور منزل مقصود اللہ تعالٰی کی بات ہے۔
موت ہی وہ سفر ہے جس کا آغاز اس عظیم الشان زندگی کو فروغ دینے کا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ضرب کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین
وسلام خادم حسین
Comments
Post a Comment